BA Urdu MJC III Ch-04 Summary 👇
پرویز شاہدی کی نظم "تثلیثِ حیات" کا خلاصہ
پرویز شاہدی کا تعلق ترقی پسند تحریک کے اہم شعراء میں ہوتا ہے۔ ان کی نظم **"تثلیثِ حیات"** ایک خوبصورت نظم ہے جس میں ان کے فکری شعور کی جھلک صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ چونکہ یہ نظم انہوں نے اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد لکھی تھی اس لیے یہ نظم پرویز شاہدی، ان کی بیوی اور بیٹی کے ارد گرد گھومتی ہے۔ نظم میں تین حصے اور 21 بند ہیں۔
نظم کا پہلا حصہ:
نظم کے پہلے حصے میں بیٹی کی پیدائش کے بعد اسے نہارتے ہوئے اس کے خدوخال کو اپنے اور بیوی کے خدوخال سے ملا رہے ہیں کہ:
> "یہ تیری انگلیاں، یہ لب، یہ آنکھیں میری ہیں، یہ تیری پیشانی میری ہی پیشانی کا ٹکڑا ہے، یہ ننھی ننھی بھوئیں میری ہیں تیری رگوں میں دوڑنے والے خون میں میرے خون کی جولانی ہے۔ تیرا پورا سراپا میری ہی روح کا ایک نکھرا ہوا روپ ہے۔"
بیٹی کو اپنے فن کی مکمل تصویر بتاتے ہیں، کہ تجھ کو تیری ماں نے اپنے خدوخال دئیے، اپنا چمکتا ہوا چہرہ دیا، جب تک پیٹ میں رہی تجھے اپنے خونِ جگر سے سینچا، تیری صورت میں وہ اپنی صورت تلاشتی ہے۔ یہ جو تو نے رشتہِ پیمانِ وفا باندھا ہے یہ ہماری محبت کی منزل ہے۔ اب سے پہلے میں اس قدر حساس نہیں تھا تیرے آنے سے مجھ میں تمنائیں بیدار ہوئیں، اب میرے اندر ہر وقت ایک شفقت و محبت کا سلسلہ رہتا ہے۔
نظم کا دوسرا حصہ:
نظم کے دوسرے حصے میں **شعور کی بالیدگی** کا ذکر ہے۔ کہ کس طرح زندگی کا تسلسل، تغیر، ثبات، تضادات انسان کے پیشِ نظر ہوتا ہے۔ ایک روح جب تخلیق ہوتی ہے تو وہ خود کو جلی حروف میں دنیا کے سامنے لے آتی ہے۔ یہ کائنات جو اتنی خوش آہنگ نظر آتی ہے اس میں اثبات و نفی کا ردِ عمل ہر وقت جاری رہتا ہے، عمل ہی دراصل ردِ عمل پیدا کرتا ہے۔ حسن اور عشق کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے جو ایک نئے پیکر میں ڈھل جاتا ہے اور اسی سے **تثلیث** بنتی ہے، یہ تثلیث ہی فطرت کی شاہد ہے اسی میں حسن و عشق پنہاں ہے، زندگی کی یہ تثلیث جس میں انہوں نے دو سے تین ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے دراصل زندگی کا فطرت کی طرف سے دیا گیا خوبصورت تحفہ ہے۔ ماں اور باپ کے باہم ملاپ سے جو تثلیث بنتی ہے وہ دنیا کو آگے بڑھانے کا قدرتی نظام ہے۔
نظم کا آخری حصہ
آخری حصے میں پرویز شاہدی نے بیٹی کے آنے کی خوشی کو بیان کیا ہے کہ کس طرح اس کے آجانے سے ان کی زندگی میں بہار آ گئی ہے، اس کی آواز سے ایک ترنم سا گونجنے لگتا ہے، اور دھڑکنیں... (تحریر یہاں ختم ہو رہی ہے)۔

Social Visits