Type Here to Get Search Results !

B.A 3rd Semester Urdu Mjc IV Ch-02 Summary






1st Ghazal 

Muflisi Sab Bahar khoti hai
Writer - Wali Dakni

 غزل کی تشریح

پہلا شعر

مفلسی سب بہار کھوتی ہے

مرد کا اعتبار کھوتی ہے

 

  تشریح: اس شعر میں ولی دکنی انسانی زندگی کی ایک کڑوی سچائی بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غربت اور مفلسی انسان کی زندگی کی تمام خوشیاں اور رونقیں (بہار) ختم کر دیتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ غریب ہونے کی وجہ سے معاشرے میں انسان کی عزت اور اس کا وقار (اعتبار) بھی ختم ہو جاتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو۔


دوسرا شعر

کیوں کہ حاصل ہو مجھ کو جمعیت

زلف تیری قرار کھوتی ہے


 تشریح: شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ مجھے ذہنی سکون اور اطمینان (جمعیت) کیسے میسر آ سکتا ہے؟ تمہاری پریشان اور بکھری ہوئی زلفیں میرے دل کا چین اور قرار چھین لیتی ہیں۔ یعنی محبوب کی خوبصورتی عاشق کو بے قرار رکھتی ہے۔


تیسرا شعر

ہر سحر شوخ کی نگہ کی شراب

مجھ انکھوں کا خمار کھوتی ہے


 تشریح: یہاں ولی کہتے ہیں کہ ہر صبح جب میں اپنے محبوب کی شوخ نظروں کا سامنا کرتا ہوں، تو وہ نظریں شراب کی طرح اثر دکھاتی ہیں۔ ان نظروں کی مستی میری آنکھوں کی پرانی تھکن یا نیند کے خمار کو دور کر کے مجھے ایک نئی مستی میں مبتلا کر دیتی ہے۔


چوتھا شعر

کیوں کے ملنا صنم کا ترک کروں

دلبری اختیار کھوتی ہے**


 تشریح: شاعر کہتا ہے کہ میں اپنے محبوب سے ملنا کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟ اس کی محبت اور دل لبھانے والا انداز (دلبری) مجھ پر ایسا اثر کرتا ہے کہ میرا اپنے نفس پر کوئی قابو نہیں رہتا۔ اس کی کشش میرا اختیار مجھ سے چھین لیتی ہے۔


مقطع (آخری شعر)

اے ولیؔ اب اس پری رو کی

مجھ سینے کا غبار کھوتی ہے

 

 تشریح: ولیؔ اپنے آپ سے کہتے ہیں کہ اب اس پری جیسے خوبصورت چہرے والے محبوب کی یاد یا اس کا دیدار میرے دل سے سارے دکھ اور رنج و ملال (سینے کا غبار) صاف کر دیتا ہے۔ محبوب کے سامنے آتے ہی دل کی تمام کدورتیں ختم ہو جاتی ہیں۔



Main theme      مرکزی خیال


یہ شاعری ہمیں بتاتی ہے کہ مفلسی یعنی غربت انسان کی زندگی کی ساری خوشیاں ختم کر دیتی ہے اور اس کی عزت و وقار بھی کم ہو جاتا ہے۔ غریب انسان پر لوگ کم بھروسہ کرتے ہیں اور اکثر اس کا دل بھی دکھاتے ہیں۔ جس کی قسمت اچھی نہیں ہوتی، وہ بار بار مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ جب کسی کے پاس کھانے اور پہننے کے لیے بھی کچھ نہ ہو تو وہ مجبوری میں اپنی شرم و حیا بھی کھو دیتا ہے۔ اس طرح مفلسی انسان سے نہ صرف خوشیاں چھین لیتی ہے بلکہ اس کی عزت اور معاشرے میں اس کا مقام بھی ختم کر دیتی ہے۔


             

                                   2nd Ghazal

Shagal Behtar hai Ishq Bazi ka

Writer - Wali Dakni

پہلا شعر

شغل بہتر ہے عشق بازی کا

کیا حقیقی و کیا مجازی کا


 تشریح: ولیؔ فرماتے ہیں کہ دنیا کے تمام کاموں اور مشغلوں میں سب سے بہترین کام 'محبت' ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عشق چاہے 'حقیقی' (اللہ سے محبت) ہو یا 'مجازی' (کسی انسان سے محبت)، دونوں ہی انسان کے دل کو زندہ رکھتے ہیں۔ مجازی عشق دراصل حقیقی عشق تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔


دوسرا شعر

ہر زباں پر ہے مثلِ شانہ مدام

ذکر تجھ زلف کی درازی کا


 تشریح: اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کی خوبصورتی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جیسے کنگھی (شانہ) ہمیشہ بالوں (زلفوں) میں رہتی ہے، بالکل اسی طرح ہر شخص کی زبان پر ہر وقت تمہاری لمبی اور خوبصورت زلفوں کا تذکرہ رہتا ہے۔ یعنی تمہاری خوبصورتی کے چرچے ہر جگہ عام ہیں۔


تیسرا شعر

آج تیری بھواں نے مسجد میں

ہوش کھویا ہے ہر نمازی کا


 تشریح: یہ ایک روایتی عشقیہ شعر ہے جس میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے ابرو (بھویں) اتنے دلکش ہیں کہ اگر وہ مسجد میں نظر آ جائیں تو عبادت کرنے والے نمازیوں کا ہوش و حواس بھی گم ہو جائے۔ یعنی محبوب کا حسن اتنا طاقتور ہے کہ وہ انسان کی توجہ دین و دنیا سے ہٹا کر اپنی طرف مبذول کر لیتا ہے۔


چوتھا شعر

گر نہیں رازِ عشق سوں آگاہ

فخر بے جا ہے رازی کا


 تشریح: یہاں ولیؔ علم اور عشق کا موازنہ کر رہے ہیں۔ 'رازی' سے مراد مشہور عالم اور فلسفی امام فخر الدین رازی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص عشق کے پوشیدہ رازوں اور اس کی حقیقت سے واقف نہیں ہے، تو اس کا اپنے علم و دانش پر فخر کرنا بیکار ہے۔ اصل علم تو عشق کی معرفت حاصل کرنا ہے۔


مقطع (آخری شعر)

اے ولیؔ! سر و قد کو دیکھوں گا

وقت آیا ہے سرفرازی کا


 تشریح: مقطع میں ولیؔ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب وہ وقت قریب آ گیا ہے جب مجھے کامیابی اور عزت (سرفرازی) ملے گی، کیونکہ اب مجھے اپنے اس محبوب کا دیدار نصیب ہوگا جس کا قد 'سرو' کے درخت کی طرح لمبا اور خوبصورت ہے۔ محبوب کا دیدار ہی عاشق کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔