Type Here to Get Search Results !

B.A/B.SC 3rd Semester MJC IV Ch-03

B.A/B.SC 3rd Semester MJC IV Chapter -03 Full Explanation

    1. ہستی اپنی حباب کی سی ہے

    2. الٹی ہو گئیں سب تدبیریں






First Ghazal

Writer - Meer Taqi meer

ہستی اپنی حباب کی سی ہے


 یہ غزل اردو صنفِ سخن (اردو لٹریچر) کے نصاب کا حصہ ہے۔

 یہ میر تقی میر کی پہلی غزل کے طور پر مطالعہ کی جاتی ہے۔


یہ میر تقی میر کی مشہورِ زمانہ غزل ہے، جس میں انہوں نے زندگی کی حقیقت اور محبوب کے حسن کو نہایت سادہ مگر پراثر انداز میں بیان کیا ہے۔


غزل کی تشریح                                                         


1. ہستی اپنی حباب کی سی ہے / یہ نمائش سراب کی سی ہے

 تشریح: اس شعر میں میر زندگی کی بے ثباتی (ناپائیداری) کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی ایک پانی کے بلبلے (حباب) کی طرح ہے جو پل بھر میں ختم ہو جاتا ہے۔ دنیا کی یہ ساری چہل پہل ایک سراب (دھوکا) کی مانند ہے، جو دور سے تو سچ لگتا ہے مگر حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔


2. نازکی اس کے لب کی کیا کہیے / پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

 تشریح: یہ میر کے سب سے خوبصورت اشعار میں سے ایک ہے۔ وہ محبوب کے ہونٹوں کی نزاکت اور خوبصورتی کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اتنے نازک اور سرخ ہیں جیسے گلاب کی ایک پتی ہو۔


3. چشمِ دل کھول اس بھی عالم پر / یاں کی اوقات خواب کی سی ہے

 تشریح: میر نصیحت کرتے ہیں کہ انسان کو صرف ظاہری دنیا ہی نہیں دیکھنی چاہیے بلکہ دل کی آنکھ کھول کر حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔ اس دنیا کی حیثیت ایک خواب سے زیادہ نہیں ہے، جیسے جاگنے پر خواب ختم ہو جاتا ہے، ویسے ہی موت کے بعد یہ دنیا ختم ہو جائے گی۔


4. بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں / حالت اب اضطراب کی سی ہے

 تشریح: اس شعر میں عاشق کی بے چینی (اضطراب) کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ عاشق اپنے دل پر قابو نہیں رکھ پاتا اور بے خودی میں بار بار محبوب کی گلی کے چکر لگاتا ہے کیونکہ اسے کہیں اور سکون نہیں ملتا۔


5. میں جو بولا کہا کہ یہ آواز / اسی خانہ خراب کی سی ہے

تشریح:جب عاشق نے محبوب کے سامنے کچھ بولنا چاہا، تو محبوب نے اسے پہچاننے کے بجائے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ آواز تو اسی "خانہ خراب" (تباہ حال عاشق) کی لگ رہی ہے۔ یہ شعر محبوب کی بے نیازی کو ظاہر کرتا ہے۔


6. آتشِ غم میں دل بھنا شاید / دیر سے بو کباب کی سی ہے

 تشریح: میر کہتے ہیں کہ غم کی آگ میں جلتے جلتے اب میرا دل شاید پوری طرح بھن چکا ہے۔ اسی لیے اب میرے وجود سے کباب کے جلنے جیسی بو آ رہی ہے۔ یہ میر کے مخصوص دردناک انداز کی مثال ہے۔


7. میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں / ساری مستی شراب کی سی ہے

 تشریح: مقطع میں میر اپنی (یا محبوب کی) آدھی کھلی (نیم باز) آنکھوں کی تعریف کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان آنکھوں میں جو خمار اور نشہ ہے، وہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا شراب پینے کے بعد ہوتا ہے۔


Second Ghazal


الٹی ہو گئیں سب تدبیریں


 شعر:

   الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

   دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا

   

   تشریح: شاعر کہتا ہے کہ عشق کی بیماری سے بچنے کے لیے میں نے جتنی بھی کوششیں اور علاج کیے، وہ سب ناکام ہو گئے۔ کوئی دوا اثر نہ کر سکی اور آخر کار اس دل کے روگ نے میری جان لے لی۔

 

شعر:

   عہدِ جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند

   یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

   

   تشریح: میر اپنی زندگی کا موازنہ ایک لمبی تھکا دینے والی رات سے کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جوانی کا سارا وقت غموں اور آنسوؤں میں گزرا، اور اب بڑھاپے (موت) میں آنکھیں بند کر کے سکون ملا ہے۔ گویا زندگی کی کٹھن رات ختم ہوئی اور موت کی صورت میں آرام کی صبح میسر آئی۔


 شعر:

   حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی

   ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا

   

   تشریح: محبوب اگر زندگی دے دے تو یہ اس کا کرم ہے، ورنہ ہماری قسمت ہی ایسی ہے کہ ہمیں تو جیتے جی مرنے کا پیغام (جدائی یا بے رخی) ہی ملتا رہا ہے۔

 شعر:

   ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

   چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

   

   تشریح: یہ میر کا بہت مشہور شعر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم انسان تو مجبور ہیں، اصل اختیار تو اللہ (یا محبوب) کے پاس ہے۔ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، مگر بلاوجہ ہمیں بدنام کیا جاتا ہے کہ ہم اپنی مرضی کر رہے ہیں۔

 شعر:

   سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں

   بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا

   

   تشریح: دنیا کے تمام آزاد منش اور سرکش لوگ بھی تیرے حسن کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ تو اتنا حسین ہے کہ ہر طرح کے مغرور لوگوں نے تجھے اپنا پیشوا (امام) بنا لیا ہے۔

 شعر:

   سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی

   کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا

   

   تشریح: جنون اور دیوانگی کی حالت میں بھی ہم نے محبوب کا احترام برقرار رکھا۔ اگرچہ ہم اس سے دور (کوسوں دور) نکل گئے، لیکن ہر قدم پر اسے یاد کیا اور سجدہ کیا۔

 شعر:

   کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا اجرام

   کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا

   

   تشریح:جو لوگ محبوب کی گلی میں سکونت اختیار کر لیتے ہیں، ان کے لیے وہی جگہ کعبہ اور قبلہ بن جاتی ہے۔ انہیں کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔

 شعر:

   شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا مے خانے میں

   جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا

   

   تشریح: اس شعر میں شیخ کے دوغلے پن پر طنز کیا گیا ہے کہ جو آج مسجد میں بہت پارسا بنا بیٹھا ہے، کل رات وہ مے خانے میں مست تھا اور اپنی ٹوپی اور لباس تک وہیں لٹا آیا تھا۔


شعر:

   کاش اب برقعہ منھ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے

   آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا

   

 تشریح: شاعر کہتا ہے کہ کاش محبوب اب اپنا پردہ ہٹا دے، کیونکہ اگر موت کے بعد (آنکھیں بند ہونے پر) اس نے اپنا دیدار عام بھی کر دیا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

 شعر:

   یاں کے سپید و سیاہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے

   رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

   

   تشریح: اس دنیا کے معاملات (سفید و سیاہ) میں ہمارا اختیار بس اتنا ہی ہے کہ ہم نے اپنی زندگی رو رو کر گزاری ہے؛ غموں میں رات کاٹی اور مشکل سے دن پورا کیا۔

 شعر:

   صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی

   رُخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا

   

   تشریح: محبوب جب باغ میں گیا تو اس کے حسن کے سامنے پھول کی کوئی قیمت نہ رہی اور اس کے قد (قامت) نے سرو کے درخت کو اپنا غلام بنا لیا۔

 

شعر:

   ساعدِ سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لاکر چھوڑ دیئے

   بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیالِ خام کیا

   

   تشریح: شاعر افسوس کرتا ہے کہ اس نے محبوب کی باتوں اور جھوٹی قسموں پر یقین کر لیا۔ وہ ایک خام خیالی تھی جس میں اس نے اپنا سب کچھ محبوب کے حوالے کر دیا۔

 

شعر:

   کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے

   استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا

   

    تشریح: میں نے جتنی زیادہ التجا (سماجت) کی، محبوب اتنا ہی زیادہ بے نیاز (استغنا) ہوتا گیا۔ میری مسلسل کوششوں اور اصرار نے فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا۔

 

شعر:

   ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی

   سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا

   

   تشریح: تم ایک ڈرے ہوئے ہرن (آہوئے رم خوردہ) کی طرح وحشی اور دور بھاگنے والے تھے۔ حیرت ہے کہ کن لوگوں نے جادو یا معجزہ کر کے تمہیں اپنا تابع (رام) کر لیا۔


 میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا


مختصر تشریح

یہ میر تقی میر کی غزل کا آخری شعر (مقطع) ہے۔ اس میں شاعر کہتا ہے کہ:

 پہلا مصرع: اب میر کے دین اور مذہب کے بارے میں پوچھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ وہ اپنی سابقہ روش بدل چکے ہیں۔

 دوسرا مصرع: انہوں نے ماتھے پر تلک (قشقہ) لگا لیا ہے اور مندر (دیر) میں جا بیٹھے ہیں۔ یعنی انہوں نے بہت پہلے ہی اسلام کی ظاہری پابندیوں کو چھوڑ کر عشق کی دنیا اختیار کر لی ہے۔