جمیل مظہری انسانی قدروں اور فکروں کے باکمال شاعر تھے۔ ان کی نظم 'تجربے' ایک شاہکار نظم ہے جس میں ارتقاء اور خودی کا فلسفہ بیان ہوا ہے۔ اس نظم میں انسانی زندگی کا ارتقاء، ارتقائے خودی، جمہوریت اور وحدتِ اقتدار کا طلسم، خدا اور انسان کا باہمی ٹکراؤ شاعر کے پیشِ نظر رہا ہے۔ یہ ایک مختصر سی نظم ہے جس میں گیارہ اشعار ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ارتقاء کی راہوں میں ایک وقت آیا تھا جب انسان نے بتوں کو توڑ کر خدا بنایا تھا، قدرت کے آزاد، بے کار اور بے حیثیت تصور کو خودی کا لبادہ پہنا کر عرش پر بٹھا دیا تھا، خود اپنے عکس کے سامنے اپنا سر جھکانے لگا تھا، احساسِ کمتری کے جذبے سے بھرے ہوئے انسان نے اپنے اسی جذبے کو فلسفہ بتا کر دنیا کو ورغلانے کی کوشش کی تھی۔ اب پھر ارتقاء کی راہوں میں وقت آیا ہے کہ انسان کی بندگی کی ذلت نے دل کو گدگدایا ہے، انسان کے غرور و تکبر کے جذبے نے سجدوں کے ڈرنے سے پھر سے گریز کرنا شروع کیا ہے۔ اب یہ حال ہے کہ خودی اور خدا دونوں زد میں آ چکے ہیں۔ اب یقیں اور واہمہ بھی گردش میں ہے۔ اب یہ جو انسان کا جمہوری مزاج بن چکا ہے یہ سارے طلسمات توڑ دے گا، لیکن اسے خطا کاروں، مے کدہ کے معماروں، عقل کے پرستاروں، وہم کے گرفتاروں، اگر دل میں خوفِ خدا ہے تو یہ بہت سنگین جذبہ ہے۔ بتوں کی محفل میں ارتقاء کی منزل میں اک خدا کے ٹکڑوں سے سودا بنا لینے کی اور چل پڑے ہو۔ تب بھی کچھ نہیں ملا تھا اب بھی کچھ نہ ملے گا۔
پوری نظم میں انسان کی جبر و قدر کے فلسفہ کو بیان کیا گیا ہے۔ انسان اپنی حکمت و دانائی کے بل بوتے پر خدا بناتا ہے پھر اسے توڑ بھی دیتا ہے۔ یہی انسان کا عمل ہے جو اسے کسی طرح چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔
Social Visits